پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

کرونا وائرس : پاکستان متاثر ہونے والے بڑے تیس ممالک میں شامل

پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ متاثرہ افراد کی تعداد 500 سے زائد ہو گئی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی پاکستان متاثر ہونے والے تیس بڑے ممالک کی فہرست میں آ گیا ہے ۔ 
افسوسناک بات یہ ہے کہ  حکومتی اور عوامی سطح پر اس تشویش ناک صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا ۔ شادی بیاہ کی تقریبات ، ادبی اور سماجی اکٹھ ،نماز اور جمعہ کے اجتماعات ختم نہیں کیے جا رہے ۔ بلکہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے قران خوانی اور دیگر مذہبی اجتماعات ہو رہے ہیں . پارٹیاں ہو رہی ہیں پکنک منائی جارہی ہے ۔ سیر و تفریح کے پروگرام ترتیب دیے جارہے ہیں ۔  جو اس کو روکنے بجائے اس میں شدید اضافے کا باعث بن رہے ہیں ۔ 



سنجیدہ حلقے پہلے ہی اس جانب توجہ دلا رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال گمبھیر ہوئی تو پاکستان میں اس سے نمٹنے کے لیے حکومتی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ جہاں ڈاکٹر ماسک اور دیگر طبی آلات کے نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں وہاں مریضوں کا کیا حال ہو گا یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے ۔


کرونا وائرس پاکستان میں صورتحال بے قابو ہونے کا خطرہ

ضرورت اس امر کی ہے لوگ خود احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔عوامی  اجتماعات میں جانے سے گریز کریں ۔ جہاں تک ممکن ہو ہوٹلنگ نہ کریں ۔ زیادہ وقت گھر میں گزاریں ۔ وقفے وقفے سے ہاتھ دھوتے رہیں ۔ ماسک استعمال کریں ۔ اور ممکن ہو تو گھر کا سودا سلف ایک ہی بار میں خرید کر رکھ لیں تاکہ بار بار بازار کا چکر نہ لگانا پڑے ۔

حکومتی سطح پر انفراسٹرکچر کا یہ حال ہے کہ پورے ملک میں صرف 2500 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں ۔ جو اس وبا میں بچاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔
مریضوں کی تعداد بڑھنے پر یہ وینٹی لیٹر امرا اور اعلیٰ طبقے کے لوگوں کے لیے بھی ناکافی ہوں گے ایسی صورت میں عوام صرف حالات کے رحم و کرم پر ہوں گے ۔ 


ضروری ہے کہ اس کے متعلق آگاہی کو پھیلایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی جائے ۔

بصورتِ دیگر یہ پاکستان میں ایک بھیانک دور کا آغاز ہو گا ۔ اور اس کے بعد حالات کیا رخ اختیار کریں گے یہ تصور کرنا ہی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دیتا ہے ۔ 



عمران خان کا قوم سے خطاب : کرونا وائرس سے نہ گھبرانے کی تلقین


عمران خان نے آج قوم سے خطاب کرتے ہوئے کرونا وائرس کے حوالے سے اپنی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا ۔
انھوں نے بتایا کہ ہم 15 جنوری سے ہی اس کے حوالے تیاری کر رہے تھے جب کہ پہلا کیس 26 جنوری کو پاکستان میں آیا ۔ 
 20 کیس ہونے کے بعد ہم نے پاکستان میں نیشنل سیکورٹی کمیٹی بنائی ۔ کمیٹی میں کرونا کے حوالے  سے  دنیا کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا ۔

اُنھوں نے کہا کہ ہم ایک غریب ملک ہیں ہماری معیشت مکمل لاک ڈاؤن کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔  ہمارے حالات ترقی یافتہ ملکوں سے بالکل مختلف ہیں ۔ 
اس طرح تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے ۔ 

کرونا وائرس پاکستان میں صورتحال بے قابو ہونے کا خطرہ



اُنھوں نے مزید بتایا کہ ہم نے NDMA (نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی) کو متحرک کیا ہے جو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے گی ۔ ہم نے ان کو فنڈز دیے ہیں کہ وہ   وینٹی لیٹر سمیت اس وبا پر قابو پانے کے لیے آلات اور ضروری اشیا درآمد کرے ۔ 

انھوں نے کہا کہ جو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی حکومت کوشش کرے گی کی ان کو ریلیف دے ۔ اسی طرح مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔

کرونا وائرس : پاکستان متاثر ہونے والے بڑے تیس ممالک میں شامل

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ قوم کو اس مشکل وقت کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا ۔ تب ہی ہم اس صورتحال سے نکل سکتے ہیں ۔

بیرون ملک پاکستانیوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایمبیسیز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اپنے پاکستانی بھائیوں کی مکمل مدد کی جائے ۔ 





اختتام کی جانب بڑھتا ہوا پی ایس ایل

پی ایس ایل اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ اب صرف سیمی فائنل اور فائنل کے میچز باقی رہ گئے ہیں ۔
کرونا وائرس نے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ اس لیگ کو بھی متاثر کیا اور بہت سے غیر ملکی کھلاڑی لیگ ادھوری چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔

اس کے علاوہ آخری لیگ میچز بغیر تماشائیوں کے کھیلے گئے جس کی وجہ سے روایتی جوش و خروش نظر نہیں آیا ۔ 


کوئٹہ گلیڈیئٹر اور اسلام آباد 
کے فینز کو بھی دھچکا لگا کہ یہ ٹیمیں سیمی فائنل کھیلنے میں ناکام رہیں ۔ 
اور لاہور قلندر نے قلندارانہ انداز میں کم بیک کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لی ۔ اور دمادم مست قلندر کر دیا ۔
اگر کرس لِن اور ڈنک ایک بار پھر کھیل گئے تو فائنل کا مرحلہ ان سے کچھ دور نہیں ہے ۔
کوئٹہ گلیڈیئٹر کے خلاف جانے والے کچھ متنازعہ فیصلے بھی اس ٹورنامنٹ میں زیرِ بحث رہے ۔

میچز کے دوران حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ٹریفک کے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوئے اور جن شہروں میں میچز ہوتے رہے وہاں کے شہری شدید مشکلات سے گزرتے رہے ۔ لیکن یہ مشکلات کرکٹ کے شور و غوغا میں دب گئیں اور کسی نے اس کے سّدِ باب کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔

بہرحال خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان میں کرکٹ واپس آئی ہے ۔ اور کرکٹ شائقین کو کو یہ امید بندھی ہے کہ مستقبل میں انھیں پاکستان میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی ۔ 


کرونا وائرس پاکستان میں صورتحال بے قابو ہونے کا خطرہ

سندھ میں کرونا وائرس کے 41 نئے کیس سامنے آنے کے بعد اب پاکستان میں کرونا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی کل تعداد 94 ہو گئی ہے ۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی اس وبا کے بے قابو ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔
کیونکہ حکومت اجتماعات پر پابندی لگا رہی ہے ۔ تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں ۔ اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی 
تلقین کی جا رہی ہے ۔

لیکن وائرس سے بچاؤ کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے ۔ ایران سے آنے والے افراد جو بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں ۔ ان کی بھی مختلف ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں ۔ کہ انھیں انتہائی غیر صحت مندانہ ماحول میں رکھا جا رہا ہے ۔ اور حکومت کی طرف سے دستانے اور ماسک تک مہیا نہیں کیے جا رہے ۔

عمران خان کا قوم سے خطاب : کرونا وائرس سے نہ گھبرانے کی تلقین

ایران جو کہ پاکستان سے بہتر انفراسٹرکچر کا حامل ملک ہے وہاں 700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 13 ہزار سے زائد اس وبا کا شکار ہیں ۔  

اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو پاکستان  میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو جائے گی ۔ کیونکہ لوگوں کی اکثریت پہلے ہی غربت کے ہاتھوں مجبور ہے ۔ ان کے لیے ممکن نہیں کہ گھر بند ہو کر بیٹھ جائیں ۔ کیونکہ اس طرح ان کے بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے ۔

ظاہر ہے لوگ کرونا سے ڈر کر بھوک سے مرنے کو ترجیح نہیں دیں گے ۔ معاشی 
بحران ملک میں جرائم چوری ، اور سٹریٹ کرائم میں شدید اضافے کا باعث بنے گا ۔


یہ خوفناک صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس وقت منافع خوری ، لالچ اور ہوس اقتدار کو ترک کر کے خالص انسانی بنیادوں پر اس المیے کا مقابلہ کیا 

جائے ۔


بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ حکومت اور ادارے عالمی اداروں سے کرونا کے نام پر فنڈ لے کر اس کی بندر بانٹ کرنا چاہتے ہیں ۔ اور اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ بلکہ عوام کی اکثریت ایک بہت بڑے المیے کا شکار ہونے والی ہے ۔

اس صورتحال میں عوام اور عوامی مفادات کا تحفظ کرنے والی قوتوں کا فرض ہے کہ وہ اس صورتحال میں حکومت پر دباؤ

                                                                                .بڑھاتے ہوئے انھیں مجبور کیا جائے کہ وہ راست اقدامات کریں


کرونا وائرس تازہ ترین ملکی و عالمی صورتحال : پاکستان میں مریضوں کی تعداد 53


کرونا وائرس نے جس طرح وبا کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ اس سے ترقی یافتہ ممالک بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ۔
چین نے حیران کن طور ہر اقدامات کرتے ہوئے اس پر قابو پا لیا ہے ۔ اس میں ان کا مختصر وقت اس وائرس کے علاج کے لیے ایک بڑے ہسپتال کی تعمیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ 

اس وقت چین میں اس کے صرف 10 ہزار کیسز موجود ہیں جب کہ اٹلی میں 20 ہزار چھ سو اور ایران میں آٹھ ہزار چھ سو ہے ۔ چین میں یہ تعداد مسلسل کم ہو
رہی ہے ۔ جب کہ ان ممالک میں یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔

بازار حسن بھی ویران : کرونا کا خوف

اس وقت دنیا میں 167682 افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ۔ جن میں سے 6456 کی موت ہو چکی ہے ۔ جب کہ 76598 مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں ۔ 

اس وقت بھی 84 ہزار سے زائد افراد اس کا شکار ہیں ۔ اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ مختلف ممالک اس حوالے سے بچاؤ کے اقدامات کر رہے ہیں ۔
تیسری دنیا کے ممالک میں اگر یہ وبا پھیلتی ہے تو اس کے بہت بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں ۔ کیونکہ وہاں علاج معالجے کے حوالے سے کوئی انفراسٹرکچر ہی موجود نہیں ہے ۔ 

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھتے ہوئے 53 ہو گئی ہے ۔ اس وائرس سے اب تک صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں کرونا کے 33 مریض ہیں ۔ 53 میں سے مکمل صحت یاب ہونے والوں کی تعداد صرف 02 ہے ۔لوگوں کو اس حوالے سے آواز اُٹھانی ہو گی اور حکومتوں پر دباؤ ڈالنا پڑے گا کہ وہ اپنی عیاشیوں اور دیگر فضول 
اخراجات کو ترک کر کے ترجیحی بنیادوں پر لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اقدامات کریں ۔



Featured Post

سزائے موت سے بچ جانے والے ساتھیوں کو ہدایت : بھگت سنگھ

باتو کشور دت کے نام سزائے موت سے بچ جانے والے ساتھیوں کو ہدایت یہ موت کی سزا سے بچ رہنے والے ساتھیوں کے لیے ہدایت نامہ تھا ۔ اس میں ب...

Popular Posts