"جندر" انقرہ یونیورسٹی (ترکی) کے نصاب کا حصّہ بن گیا

معروف شاعر اور نثر نگار اختر رضا سلیمی کے ناول "جندر" کو انقرہ یونیورسٹی (ترکی) کےاُردونصاب کا حصّہ بنا دیا گیا ہے ۔ 

اختر رضا سلیمی معورف نثر نگار ہیں ۔ اُن کے کئی شعری مجموعے آ چکے ہیں اور جندر سے قبل اُن کا ناول "جاگے ہیں خواب میں "بھی ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے ۔

اُن کا پہلا شعری مجموعہ "اختراع" 2003 میں اور دوسرا شعری مجموعہ "ارتفاع" 2008 میں منظرِ عام پر آیا ۔ جبکہ "خواب دان" کے نام سے نظموں کا مجموعہ بھی 2014 میں منظرِ عام پر آ چکا ہے ۔

اب اُن کے ناول کو ترکی کی انقرہ یونیورسٹی کے اُردو کے نصاب میں شامل کیا جانا اُن کے ساتھ ساتھ پوری پاکستانی ادبی دنیا کے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ 

محمد عارف کی تازہ تخلیق : خاکوں کا مجموعہ "خواتین و حضرات" منظرِعام پر آ گیا

معروف مزاح گو شاعر محمد عارف بہت اچھے نثر نگار بھی ہیں ۔
اس کا اندازہ ان کے حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والے خاکوں کے مجموعے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ 

"خواتین وحضرات" 17 خاکوں پر مشتمل اُن کا تازہ  مجموعہ ہے جسے جہلم بک کارنرنے شائع کیا ہے ۔ اور اس کی قیمت 600 روپے مقرر کی  ہے ۔ 

اس کتاب میں معروف مزاحیہ شعرا خالد مسعود، انعام الحق جاوید ، سرفراز شاہد اور انور مسعود کے علاوہ  سنجیدہ اہلِ قلم کے خاکے شامل ہیں ۔
ان کی اس کتاب کو ادبی حلقوں میں وسیع پیمانے پر پذیرائی مل رہی ہے ۔ 
اور اسے خاکوں کی تاریخ میں اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ 



محمد عارف کی اس سے قبل بھی کئی کتب منظرِ عام پر آ چکی ہیں ۔ جن میں

1۔ یہ زیادتی ہے ( طنزیہ و مزاحیہ شعری مجموعہ )
2۔ مزاحیہ غزل کے خدوخال (تحقیق و تنقید)
3۔ منتخب مزاحیہ کلام "نذیر احمد شیخ "
4۔ دھوپ چھاؤں (شگفتہ نثر پاروں کا انتخاب) 

زیادہ اہم ہیں ۔ اچھی نثر پڑھنے والوں اور طنز ومزاح سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتب کسی خوبصورت تحفے سے کم نہیں ہیں ۔ 

کتاب کے شائقین ان فون نمبرز اور پتے پر کتاب کے حصول کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔

فون نمبرز : 00.92.314.4440882
              : 00.92.321.5440882

پتہ          : بک کارنر شو روم بالمقابل اقبال لائبریری بُک سٹریٹ 
                جہلم پاکستان 




علامہ ناصر مدنی پر اغوا کے بعد بہیمانہ تشدد : برہنہ ویڈیو بھی بنائی گئی

پاکستان کے معروف خطیب علامہ ناصر مدنی پر اغوا کاروں نے بے رحمی سے تشدد کیا ۔ تشدد کے بعد ان کی حالت غیر ہو گئی ۔ 
علامہ ناصر مدنی نے وکیلوں کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو تشدد کے نشانات بھی دکھائے ۔
اُن کا کہنا تھا کہ اغواکاروں نے انھیں دھمکیاں بھی دی ہیں کہ اگر میڈیا کے سامنے گئے تو جان سے  مار دیا جائے گا ۔

علامہ ناصر مدنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کی کہ ان کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے اور اغواکاروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انھیں انصاف فراہم کیا جائے۔

علامہ ناصر مدنی اپنے کھلے ڈھلے اور عوامی اندازِ خطابت کے باعث سوشل میڈیا پر بھی خاصے مقبول ہیں ۔ 



انھوں نے بتایا کہ اغواکاروں نے انھیں برہنہ کیااور  رسی سے باندھ کر لکڑی کے ڈنڈوں اور گنے سے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اور اس دوران اُن کی ویڈیو بھی بناتے رہے ۔

تشدد کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اُنھوں نے بتایا کہ میرا خیال ہے جو لوگ جعلی پیر بن کر کرونا وائرس کے علاج کا ڈھونگ رچا رہے ہیں اور لوگوں سے پیسے بٹور رہے ہیں انھوں نے ہی  مجھے اغوا کر کے مجھ پر تشدد کیا ہے ۔

علامہ ناصر مدنی پر حملے کا ڈراپ سین


اُنھوں نے بتایا کہ اُن کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے لیکن اس پر ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی علامہ ناصر مدنی نے پیر حق خطیب کے حوالے سے خطاب کیا تھا کہ اگر وہ پھونکوں سے علاج کر سکتے ہیں تو انھیں کرونا کے علاج کے لیے ووہان بھیجا جانا چاہیے ۔

عمران خان کا قوم سے خطاب : کرونا وائرس سے نہ گھبرانے کی تلقین


عمران خان نے آج قوم سے خطاب کرتے ہوئے کرونا وائرس کے حوالے سے اپنی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا ۔
انھوں نے بتایا کہ ہم 15 جنوری سے ہی اس کے حوالے تیاری کر رہے تھے جب کہ پہلا کیس 26 جنوری کو پاکستان میں آیا ۔ 
 20 کیس ہونے کے بعد ہم نے پاکستان میں نیشنل سیکورٹی کمیٹی بنائی ۔ کمیٹی میں کرونا کے حوالے  سے  دنیا کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا ۔

اُنھوں نے کہا کہ ہم ایک غریب ملک ہیں ہماری معیشت مکمل لاک ڈاؤن کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔  ہمارے حالات ترقی یافتہ ملکوں سے بالکل مختلف ہیں ۔ 
اس طرح تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے ۔ 

کرونا وائرس پاکستان میں صورتحال بے قابو ہونے کا خطرہ



اُنھوں نے مزید بتایا کہ ہم نے NDMA (نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی) کو متحرک کیا ہے جو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے گی ۔ ہم نے ان کو فنڈز دیے ہیں کہ وہ   وینٹی لیٹر سمیت اس وبا پر قابو پانے کے لیے آلات اور ضروری اشیا درآمد کرے ۔ 

انھوں نے کہا کہ جو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی حکومت کوشش کرے گی کی ان کو ریلیف دے ۔ اسی طرح مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔

کرونا وائرس : پاکستان متاثر ہونے والے بڑے تیس ممالک میں شامل

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ قوم کو اس مشکل وقت کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا ۔ تب ہی ہم اس صورتحال سے نکل سکتے ہیں ۔

بیرون ملک پاکستانیوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایمبیسیز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اپنے پاکستانی بھائیوں کی مکمل مدد کی جائے ۔ 





بازار حسن بھی ویران : کرونا کا خوف

جہاں ایک طرف حکومت نے  تعلیمی اداروں اور سینما گھروں کو 31 مارچ تک بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں ۔ وہیں کرونا وائرس کے باعث بازارِ حسن کا دھندہ بھی بہت مندا جا رہا ہے ۔

مہاراشٹر حکومت کے  لوگوں کے ہجوم والی کاروباری سرگرمیوں کی بندش کے بعد ممبئی کے سرخ بتی والے علاقے میں بھی اس کا خاصا اثر دیکھا گیا ۔


ہفتہ اور اتوار کا دن تفریح گاہوں اور بازار حسن میں گاہکوں کا تانتا بندھا رہتا ہے لیکن اب یہ جگہیں اجڑے ہوئے سنسان باغ کا منظر پیش کر رہی ہیں ۔

عموماََ مزدور پیشہ لوگ جو دور دراز کے علاقوں سے یہاں کام کے لیے آئے ہوئے ہیں ۔ ان دنوں میں سیر تفریح اور موج مستی کرتے ہیں ۔ لیکن کرونا وائرس کے خوف سے اس ہفتہ اتوار کو اُنھوں نے گھر پر رہنے کو ترجیح دی ۔

اور کمرشل سیکس ورکرز اپنے گاہکوں کا انتظار کرتی رہ گئیں ۔  ایک جسم فروش خاتون نے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ عام طور پر اتوار کمائی کا دن ہوتا ہے لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا ۔

ممبئی کی تفریح گاہیں ، سیاحتی مقامات ، ہوٹل شراب خانے جہاں چھٹی کے دن لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا ۔ اس بار ویران نظر آئے ۔

جو چند ایک لوگ دکھائی بھی دیے وہ ماسک پہنے ہوئے تھے ۔ اور خوفزدہ اور جلدی میں تھے ۔

  


ابراہیم قادری کی حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی توہین : گرفتاری اور رہائی

ابراہیم قادری جن کا سابقہ نام جارج مسیح ہے ۔ نے حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریم کی شان میں شدید گستاخی کرتے ہوئے انتہائی غلیظ زبان استعمال کی ہے ۔
جس کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد مسیحی برادری شدید غم و غصے میں آ گئی ۔
واضح رہے کہ ابراہیم قادری جس کا تعلق رحیم یار خان سے ہے  سابقہ مسیحی ہے  اور اسلام قبول کرنے کے بعد اُس نے اپنا نام ابراہیم قادری اختیار کیا تھا ۔

پنجاب اسمبلی کے مسیحی ممبر طارق مسیح گل نے جب پنجاب اسمبلی میں اس کی گستاخی  پر گرفتاری کی قرارداد پیش کی تو ابراہیم قادری کو گرفتار کر لیا ۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس کے خلاف توہین مذہب کی دفعات کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ 

گرفتاری کے بعد اس کو نامعلوم مقام پر رکھا گیا تھا اور یہ یقین دہانی کرائی جا رہی تھی کہ قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ 

لیکن گرفتاری کے چند روز بعد ہی اُسے رہا کر دیا گیا ہے ۔
جس پر مسیحی برادری سراپا احتجاج ہے ۔
شبیر شفت چئیرمین نیشنل کریسچین پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ
انھیں اس عمل سے شدید دُکھ پہنچا ہے ۔
 انھوں نے کہا ہے کہ ابراہیم قادری کی رہائی یہ ثابت کرتی ہے کہ بلاسیفی لا صرف کریسچین کو دبانے کے لیے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ذاتی جھگڑوں پر بھی بلاسیفی کی دفعات لگا کر بہت سے مسیحوں کو اس وقت بھی جیل میں ڈالا گیا ہے ۔

لیکن اس شخص کی ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے جو اس کی گستاخی کا واضح ثبوت ہے لیکن اس کے باوجود اسے رہا کر دیا گیا ہے ۔


انھوں نے ابراہیم قادری کی فوری گرفتاری کے ساتھ ساتھ اس کو رہا کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔


اختتام کی جانب بڑھتا ہوا پی ایس ایل

پی ایس ایل اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ اب صرف سیمی فائنل اور فائنل کے میچز باقی رہ گئے ہیں ۔
کرونا وائرس نے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ اس لیگ کو بھی متاثر کیا اور بہت سے غیر ملکی کھلاڑی لیگ ادھوری چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔

اس کے علاوہ آخری لیگ میچز بغیر تماشائیوں کے کھیلے گئے جس کی وجہ سے روایتی جوش و خروش نظر نہیں آیا ۔ 


کوئٹہ گلیڈیئٹر اور اسلام آباد 
کے فینز کو بھی دھچکا لگا کہ یہ ٹیمیں سیمی فائنل کھیلنے میں ناکام رہیں ۔ 
اور لاہور قلندر نے قلندارانہ انداز میں کم بیک کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لی ۔ اور دمادم مست قلندر کر دیا ۔
اگر کرس لِن اور ڈنک ایک بار پھر کھیل گئے تو فائنل کا مرحلہ ان سے کچھ دور نہیں ہے ۔
کوئٹہ گلیڈیئٹر کے خلاف جانے والے کچھ متنازعہ فیصلے بھی اس ٹورنامنٹ میں زیرِ بحث رہے ۔

میچز کے دوران حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ٹریفک کے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوئے اور جن شہروں میں میچز ہوتے رہے وہاں کے شہری شدید مشکلات سے گزرتے رہے ۔ لیکن یہ مشکلات کرکٹ کے شور و غوغا میں دب گئیں اور کسی نے اس کے سّدِ باب کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔

بہرحال خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان میں کرکٹ واپس آئی ہے ۔ اور کرکٹ شائقین کو کو یہ امید بندھی ہے کہ مستقبل میں انھیں پاکستان میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی ۔ 


Featured Post

سزائے موت سے بچ جانے والے ساتھیوں کو ہدایت : بھگت سنگھ

باتو کشور دت کے نام سزائے موت سے بچ جانے والے ساتھیوں کو ہدایت یہ موت کی سزا سے بچ رہنے والے ساتھیوں کے لیے ہدایت نامہ تھا ۔ اس میں ب...

Popular Posts