سزائے موت سے بچ جانے والے ساتھیوں کو ہدایت : بھگت سنگھ

باتو کشور دت کے نام

سزائے موت سے بچ جانے والے ساتھیوں کو ہدایت

یہ موت کی سزا سے بچ رہنے والے ساتھیوں کے لیے ہدایت نامہ تھا ۔ اس میں بھگت سنگھ نے ہندوستان میں انقلاب برپا کرنے کے ادھورے کام کا ذکر کرتے ہوئے ان ساتھیوں پر زور دیا ہے کہ انقلاب کو مکمل کرنے کی ذمہ داری انہی کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے ۔






سنٹرل جیل لاہور - نومبر ،1930ء

پیارے بھائی !


فیصلہ سنایا جا چکا ہے ۔مجھے موت کی سزا دی جانا ہے ۔ان کوٹھڑیوں میں میرے علاوہ متعدد دوسرے قیدی بھی پھانسی کے منتظر ہیں ۔ان لوگوں کی ایک ہی دعا ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ پھندے سے بچ جائیں ۔ شاید میں ان میں واحد شخص ہوں جسے اس دن کا شدت سے انتظار ہے جب وہ اپنے نصب العین کے لیے ٹکٹکی کو گلے لگائے گا ۔
میں پھانسی کے تختے پر خوشی سے جاؤں گا اور دنیا کو دکھاؤں گا کہ انقلابی اپنے نصب العین کے لیے کس بہادری سے جان قربان کرتے ہیں ۔
مجھے موت کی سزا سنائی گئی ہے تاہم تمہیں عمر قید بھگتنا ہو گی ۔ تم زندہ رہو گے اور اس طرح دنیا کو دکھاؤ گے کہ انقلابی اپنے مقصد کے لیے جان ہی نہیں دیتے بلکہ ہر مصیبت کا سامنا بھی کر سکتے ہیں ۔
موت کو دنیاوی مشکلات سے فرار کا ذریعہ نہ سمجھا جائے ۔ جن انقلابیوں کو پھانسی کے پھندے سے بچ نکلنے کا موقع ملا ہے ، انھیں زندہ رہناچاہیے اور دنیا کو دکھانا چاہیے کہ وہ اپنے نصب العین کے لیے نہ صرف پھندے کو چوم سکتے ہیں بلکہ نیم تاریک قید خانوں میں بد ترین تشدد بھی برداشت کر سکتے ہیں ۔

تمہارا
بھگت سنگھ



عمران خان کا خطاب : عوام مجھ پر اعتماد کریں ۔


عمران خان سے 22 مارچ کو تقریر کرتے ہوئے  مکمل لاک ڈاؤں کی مخالفت کر دی ۔ اُنھوں نے کہا کہ ہماری 25 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔ اُن کی اکثریت دیہاڑی لگا کر بچوں کا پیٹ پالتے ہیں ۔ اگر مکمل لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے تو یہ لوگ بھوک سے مر جائیں گے ۔                                
ہم لوگوں کو گھروں میں کھانا نہیں پہنچا سکتے ۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ خود گھروں میں بند رہیں ۔ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور خود کو قرنطینہ میں رکھیں ۔ احتیاط کریں اسی صورت وہ اس وبا سے بچ سکتے ہیں ۔
اُنھوں نے کہا کہ ہمیں کرونا سے زیادہ افراتفری سے خطرہ ہے ۔ ہمارے پاس اناج وافر مقدار میں موجود ہے ۔ کسی کو ذخیرہ اندوزی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ 
 انھوں نے کہا ہے کہ عوام اُن پر اعتماد کرے ۔ 



اُن کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا میں اُن کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اںھوں نے عوام کے لیے کسی ٹھوس ریلیف کی بات نہیں کی ۔ بلکہ عوام کو خود گھروں میں محدود رہنے کا مشورہ دیا ہے ۔

لوگ سوال پوچھ رہے ہیں اگر وہ خود کو گھروں تک محدود کر لیں گے تو اُن کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا ۔
لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہ کرنے کے بعد لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا مشورہ کیسے دیا جا سکتا ۔ 


اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ پیسے والے لوگ گھروں میں بند رہیں ۔ اور صرف دیہاڑی دار لوگ باہر نکلیں تو اُن کا کام کیسے چلے گا ۔ کیونکہ مزدور تو چوک میں بیٹھ بیٹھ کر چلے جائیں گے کام کروانے والے باہر ہی نکلیں گے ۔

اسی طرح رکشہ ڈرائیور اور ٹیکسی ڈرائیور کا کام تو اسی وقت چلے گا جب لوگ بازاروں میں موجود ہوں گے ۔ اگر لوگ خود کو گھروں تک محدود کر لیں گے تو یہ بھی ایک لاک ڈاؤن کی صورت ہی ہو گی ۔ 

عمران خان کا قوم سے خطاب : کرونا وائرس سے نہ گھبرانے کی تلقین

لوگ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں۔ اس مشکل صورتحال میں انھوں نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ کہ لوگ خود احتیاط کریں اور بچ سکتے ہیں تو بچیں ورنہ مر جائیں ۔ حکومت آپ کی مدد کرنے سے قاصر ہے ۔

لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان ماضی میں اپنی کہی ہوئی ہر بات سے یو ٹرن لیتے رہے ہیں ۔ اور اس بار تو انھوں نے عوام کو ریلیف دینے کا کوئی وعدہ اور دعویٰ بھی کیا ۔ ایسے میں اُن پر کیا اعتماد کیا جا سکتا ہے ۔

عمران خان نے تقریر کے  آخر میں کہا کہ وہ پرسوں صنعت اور تجارت کے حوالے سے اہم اعلانات کریں گے ۔ 

                                

بُنمبل : شکور احسن کا نیا پوٹھوہاری شعری مجموعہ

شکور احسن کا نیا  پوٹھوہاری شعری مجموعہ "بُنمبل " کے نام سے چھپ کر منظرِ عام پر آ چکا ہے ۔ 


شکور احسن اردو اور پوٹھوہاری میں شعر کہتے ہیں ۔ افسانے اور مضامین بھی لکھتے ہیں ۔

لیکن شاعری اور خصوصی طور پر پوٹھوہاری شاعری میں اُن کے جوہر نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں ۔ 

پوٹھوہاری زبان و ادب سے لگاؤ کے باعث وہ شعر کہنے کے علاوہ زبان و ادب کی اشاعت و  ترویج کے لیے بھی ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں ۔ 

ایک اچھے منتظم کی حیثیت سے مختلف ادبی تنظیموں کا حصّہ ہیں اور ادبی سرگرمیوں کے لیے خود کو وقف کیے ہوئے ۔
اُن کے تازہ شعری مجموعے نے بھی پوٹھوہاری شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کو متاثر کیا ۔ اور اس شعری مجموعے نے اُنھیں پوٹھوہاری کے صفِ اوّل کے شعرا میں لا کھڑا کیا ہے ۔ 



اُن کی شاعری جہاں تہذیب و ثقافت سے جڑی ہوئی ہے وہیں اس میں جدت کا رنگ بھی نمایاں ہے ۔

قارئین کتاب کے حصول کے لیے مندرجہ ذیل فون نمبر اور پتے پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔

پتہ  : گاؤں پنڈوڑہ ڈاکخانہ بھائی خان یونین کونسل جنڈ مہلو
        تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی 

فون : 03015230171



کرونا وائرس : پاکستان متاثر ہونے والے بڑے تیس ممالک میں شامل

پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ متاثرہ افراد کی تعداد 500 سے زائد ہو گئی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی پاکستان متاثر ہونے والے تیس بڑے ممالک کی فہرست میں آ گیا ہے ۔ 
افسوسناک بات یہ ہے کہ  حکومتی اور عوامی سطح پر اس تشویش ناک صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا ۔ شادی بیاہ کی تقریبات ، ادبی اور سماجی اکٹھ ،نماز اور جمعہ کے اجتماعات ختم نہیں کیے جا رہے ۔ بلکہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے قران خوانی اور دیگر مذہبی اجتماعات ہو رہے ہیں . پارٹیاں ہو رہی ہیں پکنک منائی جارہی ہے ۔ سیر و تفریح کے پروگرام ترتیب دیے جارہے ہیں ۔  جو اس کو روکنے بجائے اس میں شدید اضافے کا باعث بن رہے ہیں ۔ 



سنجیدہ حلقے پہلے ہی اس جانب توجہ دلا رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال گمبھیر ہوئی تو پاکستان میں اس سے نمٹنے کے لیے حکومتی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ جہاں ڈاکٹر ماسک اور دیگر طبی آلات کے نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں وہاں مریضوں کا کیا حال ہو گا یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے ۔


کرونا وائرس پاکستان میں صورتحال بے قابو ہونے کا خطرہ

ضرورت اس امر کی ہے لوگ خود احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔عوامی  اجتماعات میں جانے سے گریز کریں ۔ جہاں تک ممکن ہو ہوٹلنگ نہ کریں ۔ زیادہ وقت گھر میں گزاریں ۔ وقفے وقفے سے ہاتھ دھوتے رہیں ۔ ماسک استعمال کریں ۔ اور ممکن ہو تو گھر کا سودا سلف ایک ہی بار میں خرید کر رکھ لیں تاکہ بار بار بازار کا چکر نہ لگانا پڑے ۔

حکومتی سطح پر انفراسٹرکچر کا یہ حال ہے کہ پورے ملک میں صرف 2500 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں ۔ جو اس وبا میں بچاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔
مریضوں کی تعداد بڑھنے پر یہ وینٹی لیٹر امرا اور اعلیٰ طبقے کے لوگوں کے لیے بھی ناکافی ہوں گے ایسی صورت میں عوام صرف حالات کے رحم و کرم پر ہوں گے ۔ 


ضروری ہے کہ اس کے متعلق آگاہی کو پھیلایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی جائے ۔

بصورتِ دیگر یہ پاکستان میں ایک بھیانک دور کا آغاز ہو گا ۔ اور اس کے بعد حالات کیا رخ اختیار کریں گے یہ تصور کرنا ہی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دیتا ہے ۔ 



بابا بُلّھے شاہ : گور پیا کوئی ہور


پنجابی زبان کے مشہور عوامی شاعر بابا بُلھے شاہ کی پیدائش 1680ء میں ریاست بہاولپور (پاکستان) کے ایک گاؤں " اُچ گیلانیاں " میں ہوئی ۔۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آپ کا خاندان قصور منتقل ہو گیا ۔۔ آپ کے والد کا نام شاہ محمد درویش تھا ۔۔ وہ مسجد کی امامت کرتے تھے اور بچوں کو تعلیم دیتے تھے ۔۔ انھیں عربی ، فارسی اور مذہبی علوم پر دسترس حاصل تھی ۔



بابا بُلّھے شاہ کا اصل نام عبداللہ شاہ تھا ۔۔ جو بگڑ کر بُلھا شاہ اور بُلّھے شاہ ہو گیا ۔۔ اور وہ اسی نام سے مشہور ہوئے ۔۔ اور یہی نام خاص و عام کی زبان پر گونجنے لگا ۔۔۔ بُلّھے شاہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ۔۔ چند دوسرے اساتذہ سے علم حاصل کرنے کے بعد علم و عرفان کی جستجو اور تڑپ آپ کو حضرت شاہ عنایت قادری کے دروازے پر لے آئی ۔۔

شاہ عنایت تصوف کے قادری سلسلے سے تعلق رکھتے تھے ۔۔ ذات کے لحاظ سے آرائیں تھے ۔۔ اور بہت سی فارسی کتابوں کے مصنف تھے ۔۔۔ وہ دوسرے صوفیاء کی طرح تارک الدُنیا نہیں تھے ۔۔ بلکہ کھیتی باڑی اور باغبانی کرتے تھے ۔۔۔ قصور میں مقیم تھے لیکن حاکم سے مخالفت کی وجہ سے لاہور منتقل ہونا پڑا اور پھر لاہور کے ہی ہو کر رہ گئے ۔۔

بُلّھے شاہ کا بچپن گاؤں میں مویشی چراتے گذرا ۔۔ والد امام مسجد تھے اور امام مسجد کی حیثیت اُس عہد میں گاؤں کے دوسرے ہنرمندوں موچی ، نائی اور جولاہوں کے برابر ہی تھی ۔۔ یہی وجہ ہے بُلّھے شاہ کامعاشرے کے پِسے ہوئے طبقات کے حوالے سے نہ صرف گہرا مشاہدہ تھا ۔۔ بلکہ آپ خود ان حالات سے گزرے تھے ۔۔ اسی مشاہدے اور تجربے نے آگے چل کر بے باک شاعرانہ اسلوب کی بنیاد رکھی ۔۔

اگر اُس عہد کا جائزہ لیا جائے تو سترہویں اور اٹھارویں صدی برصغیر کا پرآشوب عہد تھا ۔۔ اس عہد نے نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کی تباہ کاریاں دیکھیں ۔۔۔ دلّی کو اجڑتے ہوئے دیکھا ۔۔ لاکھوں انسان اس قتل و غارت کی بھینٹ چڑھ گئے ۔۔۔ دوسری جانب یہ اورنگ زیب عالمگیر کی " مذہبی جنونیت " کا عہد تھا ۔۔ جس میں بادشاہت کے جبر کو ملائیت میں ڈبو کر لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔۔۔ عالمگیر کے بارے میں ابنِ انشاء کا مشہور جملہ ہے کہ " دین و دنیا دونوں پر نظر رکھتا تھا نہ اس نے کوئی نماز چھوڑی اور نہ کسی بھائی کو چھوڑا " ۔۔۔

عوام کے ساتھ سلوک میں مذہب کو اہمیت دی جانے لگی ۔۔ اور مذہبی تعصبات کو اُبھارنے کی کوشش کی گئی ۔۔۔ جبر و استبداد اور ظلم و ناانصافی کو نماز روزے اور ٹوپیاں سینے جیسے علامتی کاموں میں لپیٹ پر روا رکھا جانے لگا ۔۔ جس پر اُسے اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کہا جانے لگا ۔ جس میں مذہبی پیشواؤں کو بھی جبر کا موقع میسر آیا ۔۔

دوسری طرف اس انتشار اور مذہبی جنونیت کے خلاف ہمیں ادبی اور فکری سطح پر ایک بے مثال ردِ عمل بھی ملتا ہے ۔۔ اسی عہد میں پنجاب نے بُلّھے شاہ (1757-1680) اور وارث شاہ (1798-1722) کو جنم دیا ۔۔۔ سندھ کی دھرتی پر شاہ لطیف بھٹائی (1752-1689) اور سچل سرمست (1826-1739) نے انمٹ نقوش چھوڑے ۔۔۔ پشتو زبان میں رحمان بابا (1711-1653) عوام کی آواز بن کر اُبھرے اردو میں خواجہ میر درد (1785-1721) اور میر تقی میر (1810-1723) نے عظیم شعری روایت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں ۔۔۔

لیکن اس عہد کے بے مثال شعراء میں یہ اعزاز صرف بُلّھے شاہ کے حصے میں آیا کہ ان کے اشعار ، کافیاں اور دوہڑے صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ سندھ ، راجستھان اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں لوگوں کے دل کی آواز بن گئے ۔۔۔ اور اس عظیم شاعر کی آواز ہندوستان کے ہر کونے اور ہر لہجے میں گونجی ۔۔۔

بُلّھے شاہ کی شاعری اور زندگی مذہبی ملاؤں اور پنڈتوں سے نبرد آزما رہی ۔۔ فرسودہ ذات پات کا نظام اور طبقاتی تفریق کو آپ نے خاص طور پر ہدفِ تنقید بنیایا ۔۔ گھسے پٹے کتابی علم سے نکل کر سماج کی زندہ حقیقتوں کو موضوع بحث بنایا ۔۔۔ مذہبی بنیادوں پر نفرت اور جھگڑے پیدا کرنے والے متعصب اور جنونی مذہبیوں کے خلاف آواز بلند کی ۔۔ اور تمام انسانوں کو ایک انسانی برادری قرار دیا ۔۔۔

آپ جب شاہ عنایت کے مرید ہوئے تو اس پر بھی اُن کی برادری اور ملّاؤں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ۔۔ کیونکہ آپ سیّد تھے آلِ نبی اولادِ علی سے تعلق رکھتے تھے ۔۔ لیکن شاہ عنایت ذات کے آرائیں تھے جو کمتر اور گھٹیا سمجھی جاتی تھی ۔۔۔ یہ بات اُن کی برادری اور مذہبی ٹھیکیداروں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی کہ ایک اعلٰی خاندان اور قابلِ فخر نسبت کا حامل شخص نچلی ذات کے کسی فرد کے سامنے زانوئے تلمّذ تہہ کرے ۔۔

لیکن آپ نے اپنے سیّد ہونے کو ٹھکرا دیا ۔۔ اور سب کی مخالفت مول لے کر شاہ عنایت کو مرشد مان لیا ۔ اور اُس نسلی تفاخر سے نکل کر اپنی تشکیلِ نو کی اور ایک نئے انسان کے روپ میں سامنے آئے جو ماضی کے تمام تعصبات سے پاک ہو چکا تھا ۔۔ اس حوالے سے اُن کے اشعار دیکھیے :

بُلھے نوں سمجھاؤن آیاں بہناں تے بھرجائیاں
آلِ نبی اولاد علی دی توں کیوں لیکاں لائیاں
من لے بُلھیا ساڈا کہنا ، چھڈ دے پلّہ رائیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیہڑا سانوں سیّد آکھے ، دوزخ ملن سزائیاں
جہیڑا سانوں رائیں آکھے ، بہشتیں پینگاں پائیاں
جے توں لوڑیں باغ بہاراں ، طالب ہو جا رائیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بغاوت پر آپ کو خاندان ، ذات اور اپنے ہم مذہبوں کی شدید مخالفت مول لینا پڑی ۔۔ لیکن آپ ڈٹے رہے ۔۔ نہ صرف یہ کہ ہر قسم کا لعن طعن برداشت کیا بلکہ اپنی شاعری اور عمل سے اُس کا جواب بھی دیا ۔

اسی دور میں جب آپ نسلی تفاخر کو خاک میں ملانے کی پاداش میں زیر عتاب تھے ۔۔ آپ نے گدھے پال لیے جو اُس عہد میں سب سے نچلے طبقے کا کام تھا ۔۔ اور کوئی باعزت شخص یہ کام نہیں کر سکتا تھا ۔۔ لیکن بُلھے شاہ اپنے آپ کو اُس سماج کے نچلے ترین طبقے میں لے آئے اور اُس کا عملی حصّہ بن گئے ۔۔ یہاں تک کہ لوگ آپ کو "کھوتیاں والا" کہہ کر پکارنے لگے ۔۔۔

دقیانوسی رسوم و رواج اور روایتی بندھن آپ کو کبھی بھی پسند نہ تھے ۔۔ زندگی کے ہر موڑ پر اُن کو توڑ کر آپ کو خوشی ملتی تھی ۔۔ مذہب ، رنگ ، نسل اور جنس کی تفریق آپ کے نزدیک ایک بے معنی چیز تھی ۔۔۔ اور انسانی وحدت اور انسانی برادری کی ہم آہنگی کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی تھی ۔۔۔

آپ کے حوالے سے مشہور ہے کہ ہیجڑوں کے ساتھ گھل مل جاتے ۔۔ اُن کے ساتھ ناچنا شروع کر دیتے ۔۔ یہاں تک کہ چوکوں اور چوراہوں میں مجمع کے سامنے بھی ہیجڑوں کے ساتھ ناچتے ۔۔۔
اُن کا خاندان اور برادری اس بات سے نالاں رہتے کہ بُلھا ہر قدم پر اُن کی بے عزتی کا باعث بن رہا ہے ۔۔ شاہ عنایت کا مرید ہونے کے بعد ، گدھے پالنا اور اب ہیجڑوں کے ساتھ ناچ گانا ۔۔ لیکن آپ اپنی سرمستی اور دھن میں چلتے چلے جا رہے تھے ۔۔

بُلھے شاہ سے قبل بھی شعرا نے مذہبی پیشواؤں کی چیرہ دستیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے ۔۔ لیکن جس بہادری ، جرات اور دلیری سے بُلھے شاہ نے ان مذہبی ٹھیکیداروں کو رد کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔۔ کہتے ہیں :

ملّا تے مشالچی دوہاں اکو چت
لوکاں کردے چاننا تے آپ ہنیرے وچ

اسی طرح اُن مُلّاؤں کی عالمانہ اصطلاحات اور فرسودہ کتابوں کی بے معنی تکرار سے تنگ آ کر یوں اُن کا پردہ فاش کرتے ہیں :

عِلموں پئے قضیے ہور
اکھیں والے انھی کور
پھڑ لئے ساہ تے چھڈے چور
دوہیں جہانیں ہویا خوار

عِلموں بس کریں او یار

پڑھ پڑھ مسئلے روز سناویں
کھانا شک شبہے دا کھاویں
دسّیں ہور تے ہور کماویں
اندر کھوٹ باہر سچیار

علموں بس کریں او یار

پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں
اُچیاں بانگاں چانگھاں ماریں
منبر چڑھ کے واعظ پکاریں
تینوں کیتا حرص خوار

علموں بس کریں او یار

یہ بُلھے شاہ ہی تھا جس نے رام رحیم کے قدیمی جھگڑے کو رد کر کے اصل مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروائی اور اس نتازعے کو بے معنی قرار دیا ۔۔ جو ملّاؤں کا گھڑا ہوا ہے ۔۔۔ اور جس کا جدید عہد کے تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔

کتے رام داس کتے فتح محمد ایہو قدیمی شور
نپٹ گیا دوہاں دا جھگڑا ، نکل پیا کوئی ہور

اپنے عہد کی افراتفری ، سماجی گراوٹ اور لوٹ مار کو بُلھے شاہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔۔۔

الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھید سجن دے پائے
کاں لگڑنوں مارن لگے، چڑیاں جرے ڈھائے
پیوپتراں اتفاق نہ کائی، دھیاں نال نہ مائے
آپنیاں وچ اُلفت ناہیں ، کیا چاچے کیا تائے
سچیاں نوں پئے ملدے دھکّے ، جھوٹے کول بہائے

کہتے ہیں ایک مرتبہ آپ حجرے میں بیٹھے تھے ۔۔ رمضان کا مہینہ تھا ۔۔۔ آپ کے کچھ مرید حجرے کے باہر بیٹھے گاجریں کھا رہے تھے ۔۔ قریب سے چند روزہ دار مسلمان گذرے تو اُنھیں رمضان میں اس طرح روزہ خوری پر شدید غصّہ آیا ۔۔۔بولے " شرم نہیں آتی رمضان کے مہینے میں چر رہے ہو " ؟ مریدوں نے کہا " جاؤ بھائی مومنو! بھوک لگی ہے اسی لیے کھا رہے ہیں ۔۔۔"
مومنوں کو شک ہوا کہ شاید یہ مسلمان نہیں ہیں ۔۔ اُنھوں نے پوچھا کہ تم ہو کون ؟ مُریدین بولے مسلمان ہیں کیوں مسلمانوں کو بھوک نہیں لگتی ؟؟

یہ سننا تھا کہ مومنین جو گھوڑوں پر سوار تھے نیچے اُتر آئے اور مریدوں کی خوب پٹائی کی ۔۔ اور حجرے میں جا کر آپ سے پوچھا " ارے تو کون ہے " ؟؟ آپ نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں جانے کا کہا ۔۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا " تو کون ہے بولتا کیوں نہیں" ؟؟ آپ نے پھر جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔ وہ آپ کو دیوانہ سمجھ کر چلے گئے ۔۔

تھوڑی دیر کے بعد مرید حجرے میں داخل ہوئے اور شکایت کی کہ اُنھوں نے ہمیں مارا ہے ۔۔ آپ نے کہا " تم لوگوں نے ضرور کوئی قصور کیا ہو گا ۔۔۔ "
مرید بولے نہیں حضور ہم نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔
انھوں نے تم سے کیا پوچھا تھا ؟
مریدین نے بتایا کہ اُنھوں نے پوچھا تھا کہ تم کون ہو تو ہم نے کہا مسلمان ہیں ۔۔۔
بُلھے شاہ نے کہا کچھ بنے ہو تو مار کھائی ہے ناں ہم کچھ نہیں بنے ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا ۔۔"
بُلّھے شاہ کون ہے ؟ اس بارے میں آپ نے خود شعری پیرائے میں یوں اظہارِخیال کیا ہے ۔۔

بلھیا کی جاناں میں کون ؟

نہ میں مومن وچ مسیتاں
نہ میں وچ کفر دیاں ریتاں
نہ میں پاکاں وچ پلیتاں
نہ میں موسی نہ فرعون

بلھیا کی جاناں میں کون ؟

نہ میں وچ پلیتی پاکی
نہ میں وچ شادی غمناکی
نہ میں آبی نہ میں خاکی
نہ میں آتش نہ میں پون

بلھیا کی جاناں میں کون ؟

نہ میں بھیت مذہب دا پایا
نہ میں آدم ہوا جایا
نہ کجھ اپنا نام دھرایا
نہ وچ بیٹھن نہ وچ بھون

بلھیا کی جاناں میں کون ؟

اوّل آخر آپ نوں جاناں
نہ کوئی دوجا ہور پچھانا
میتھوں ودھ نہ کوئی سیانا
بلھیا او کھڑا ہے کون

بلھیا کی جاناں میں کون ؟

بُلھے شاہ نے شاعری کے ضمن میں ایک ضخیم ورثہ چھوڑا ہے ۔۔ پنجابی کی تمام اہم اصناف کافی ِ سی حرفی ، گنڈھاں ، اٹھوارے ، دوہڑے اور بارہ ماہے اُن کے کلام میں شامل ہیں ۔۔۔

ایک مختصر پوسٹ میں اُن کے کلام ، فکر، زندگی اور اُس عہد کے حالات کی جانب محض اشارہ کرنا ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔۔ اور اس میں بہت سے پہلوؤں کا رہ جانا بھی یقینی ہے ۔۔۔

بُلھے شاہ اپنے عہد کے سماجی اور مذہبی جبر کے خلاف ایک انتہائی توانا آواز تھے جو اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر جدوجہد کرتے رہے ۔۔۔ آپ کی اعلی انسانی اقدار اور فکر و عمل کے باعث ہندو ، مسلمان ، سکھ اور مختلف عقیدوں سے تعلق رکھتے والے لوگ اُن سے یکساں محبت رکھتے ہیں ۔

بُلّھے شاہ کی موت کے وقت (1757) اُن کے انقلابی فکروعمل کے باعث ملّاؤں نے انھیں برادری کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔۔ اُن پر کفر کا فتویٰ لگا کر اُن کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا ۔ ویسے بھی بُلھے شاہ کو اس کی ضرورت  نہیں تھی ۔ وہ تو آج بھی اپنے کروڑوں عقیدت مندوں اور مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں ۔ وہ تو خود کہتے ہیں ۔ 



" بّلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کرونا وائرس : توہمات ، جعلی ٹوٹکے اور خرافات

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں جعلی ٹوٹکوں ، توہمات اور علاج کے عجیب و غریب طریقوں  میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ 

خصوصی طور پر بر صغیر میں جہاں سائنسی طرزِ فکر پر توہمات حاوی رہتےہیں ۔ وہاں اس طرح کی کسی آفت ، مصیبت یا وبا کی صورت میں مختلف مولوی ، پنڈت اور یوگی نمودار ہو جاتے ہیں ۔ اور لوگوں کو اس سے بچنے کے عجیب و غریب طریقے بتانا شروع کر دیتے ہیں جسے ایک سائنس کا ادنیٰ طالب علم بھی قبول نہیں کر سکتا ۔ 


مگر لوگوں کی اکثریت جو نہ صرف سائنسی علم سے بہرہ ور نہیں ہے بلکہ جدید سائنسی علاج کروانے کی استطاعت سے بھی محروم ہے ۔ انھیں ڈبہ پیروں اور جوگیوں کی بے سر و پا باتوں کو سننے پر مجبور ہے ۔

کرونا وائرس کی وبا  نے بھی اس طرح کے پیروں کو موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ اس موضوع پر اپنے اپنے عقیدوں کی دھن پر راگ گا سکیں ۔ 

کیونکہ اب تک سائنسی اعتبار سے اس کی ویکسین دریافت نہیں ہو سکی ۔ 

ہمارا حکمران  طبقہ بھی  اس سلسلے میں ان عاملوں اور مولویوں کا ہمنوا ہے ۔ کیونکہ وہ لوگوں کو بنیادی صحت کی سہولتیں دینے میں ناکام ہے ۔ اور اس وائرس سے بچاؤ کے لیے بنیادی آلات فراہم کر سکتا ہے نہ ہی انفراسٹکچر بنا سکتا ہے ۔  اس لیے وہ بھی لوگوں کو دعاؤں کے آسرے پر زندہ رکھے ہوئے ہے ۔
انڈیا میں گاؤ موتر اور گاؤ گوبر کو کرونا کا علاج قرار دیا جا رہا ہے ۔
اور ایک ہندو قوم پرست جماعت نے تو گاؤ موتر پینے کی ایک اجتماعی تقریب بھی منعقد کی ہے ۔ گاؤ موتر پینے کی اس پارٹی میں لوگ گھنٹوں برتن اُٹھائے  لائن میں لگے رہے ۔

پاکستان میں حجامہ سینٹر اس کا علاج کرنے میں سرگرم ہو گئے ہیں ۔

ایک مولوی صاحب نے قرآن سے بال تلاش کر کے اسے پانی میں ڈبو کر پینے کو اس کا علاج بتایا ہے ۔


پیاز ، پودینہ ، گڑ اور کلونجی بھی تجویز کیے جا رہے ہیں ۔

ایک پیر صاحب پھونکوں سے اس علاج کر رہے ہیں ۔

کچھ لوگوں کو خواب میں اشارے ملے ہیں کہ ان دعاؤں کو پڑھنے سے اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے ۔ 

ایک مولوی صاحب کی مذہبی تحقیق سے یہ بات آشکار ہوئی ہے کہ  کبوتر کے گوشت میں کرونا وائرس کا علاج ہے ۔

غرض کہ  عجیب غریب طریقوں ، دعاؤں اور دواؤں کی بھرمار ہے ۔ 

اگر کمی ہےتو صرف سائنسی طریقہ علاج کی اور جدید انفراسٹرکچر کی ۔
 کرونا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات نہیں کیے جا رہے اور  ڈاکٹروں تک کو ماسک اور حفاظتی آلات  فراہم نہیں کیے جا رہے ۔

عوام کو چاہیے کہ اس توہم پرستی سے نکلتے ہوئے ان پیروں ، حکیموں اور پنڈتوں کے ہاتھوں یرغمال نہ ہوں ۔ اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ علاج کے لیے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں ۔ 


علامہ ناصر مدنی پر حملے کا ڈراپ سین

علامہ ناصر مدنی پر حملے کا معمہ حل ہو گیا ۔ اُن پرتشدد کرنے والے ملزمان گرفتار کر لیے گئے ۔
واضح رہے کہ چند دن قبل علامہ ناصر مدنی کو اغوا کر لیا گیا اور اُن پر شدید تشدد کرتے ہوئے اُنھیں برہنہ کر کے اُن کی ویڈیو بنائی گئی تھی ۔
اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں ۔


علامہ ناصر مدنی پر اغوا کے بعد بہیمانہ تشدد : برہنہ ویڈیو بھی بنائی گئی

اُس وقت علامہ ناصر مدنی نے خود پر تشدد کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے جعلی پیر جو شُف شُف کر کے کرونا کا علاج کرنے کا دعویٰ کرتا ہے کے متعلق ایک ویڈیو بنائی تھی ممکن ہے کہ اسی وجہ سے اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو ۔ 

اُن کی یہ بات درست نکلی ۔ اُن پر  تشدد کرنیوالے غلام ربانی، علی عباس اور محمد الیاس ہیں جنہیں پولیس نے گرفتار کیا اور ملزمان سے دو گنز اور ایک پستول برآمد کیاہے ۔ اُن میں سے ایک ملزم غلام ربانی پیر حق خطیب سرکار کا مرید ہے ۔ اور اس کے حق خطیب سرکار سے قریبی روابط کے ثبوت بھی ملے ہیں ۔ پولیس اب تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ تشدد پیرحق خطیب کی ایما پر کیا گیا ہے یا یہ مریدین کا ذاتی اور جذباتی فیصلہ تھا ۔ 


"جندر" انقرہ یونیورسٹی (ترکی) کے نصاب کا حصّہ بن گیا

معروف شاعر اور نثر نگار اختر رضا سلیمی کے ناول "جندر" کو انقرہ یونیورسٹی (ترکی) کےاُردونصاب کا حصّہ بنا دیا گیا ہے ۔ 

اختر رضا سلیمی معورف نثر نگار ہیں ۔ اُن کے کئی شعری مجموعے آ چکے ہیں اور جندر سے قبل اُن کا ناول "جاگے ہیں خواب میں "بھی ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے ۔

اُن کا پہلا شعری مجموعہ "اختراع" 2003 میں اور دوسرا شعری مجموعہ "ارتفاع" 2008 میں منظرِ عام پر آیا ۔ جبکہ "خواب دان" کے نام سے نظموں کا مجموعہ بھی 2014 میں منظرِ عام پر آ چکا ہے ۔

اب اُن کے ناول کو ترکی کی انقرہ یونیورسٹی کے اُردو کے نصاب میں شامل کیا جانا اُن کے ساتھ ساتھ پوری پاکستانی ادبی دنیا کے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ 

محمد عارف کی تازہ تخلیق : خاکوں کا مجموعہ "خواتین و حضرات" منظرِعام پر آ گیا

معروف مزاح گو شاعر محمد عارف بہت اچھے نثر نگار بھی ہیں ۔
اس کا اندازہ ان کے حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والے خاکوں کے مجموعے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ 

"خواتین وحضرات" 17 خاکوں پر مشتمل اُن کا تازہ  مجموعہ ہے جسے جہلم بک کارنرنے شائع کیا ہے ۔ اور اس کی قیمت 600 روپے مقرر کی  ہے ۔ 

اس کتاب میں معروف مزاحیہ شعرا خالد مسعود، انعام الحق جاوید ، سرفراز شاہد اور انور مسعود کے علاوہ  سنجیدہ اہلِ قلم کے خاکے شامل ہیں ۔
ان کی اس کتاب کو ادبی حلقوں میں وسیع پیمانے پر پذیرائی مل رہی ہے ۔ 
اور اسے خاکوں کی تاریخ میں اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ 



محمد عارف کی اس سے قبل بھی کئی کتب منظرِ عام پر آ چکی ہیں ۔ جن میں

1۔ یہ زیادتی ہے ( طنزیہ و مزاحیہ شعری مجموعہ )
2۔ مزاحیہ غزل کے خدوخال (تحقیق و تنقید)
3۔ منتخب مزاحیہ کلام "نذیر احمد شیخ "
4۔ دھوپ چھاؤں (شگفتہ نثر پاروں کا انتخاب) 

زیادہ اہم ہیں ۔ اچھی نثر پڑھنے والوں اور طنز ومزاح سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتب کسی خوبصورت تحفے سے کم نہیں ہیں ۔ 

کتاب کے شائقین ان فون نمبرز اور پتے پر کتاب کے حصول کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔

فون نمبرز : 00.92.314.4440882
              : 00.92.321.5440882

پتہ          : بک کارنر شو روم بالمقابل اقبال لائبریری بُک سٹریٹ 
                جہلم پاکستان 




علامہ ناصر مدنی پر اغوا کے بعد بہیمانہ تشدد : برہنہ ویڈیو بھی بنائی گئی

پاکستان کے معروف خطیب علامہ ناصر مدنی پر اغوا کاروں نے بے رحمی سے تشدد کیا ۔ تشدد کے بعد ان کی حالت غیر ہو گئی ۔ 
علامہ ناصر مدنی نے وکیلوں کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو تشدد کے نشانات بھی دکھائے ۔
اُن کا کہنا تھا کہ اغواکاروں نے انھیں دھمکیاں بھی دی ہیں کہ اگر میڈیا کے سامنے گئے تو جان سے  مار دیا جائے گا ۔

علامہ ناصر مدنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کی کہ ان کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے اور اغواکاروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انھیں انصاف فراہم کیا جائے۔

علامہ ناصر مدنی اپنے کھلے ڈھلے اور عوامی اندازِ خطابت کے باعث سوشل میڈیا پر بھی خاصے مقبول ہیں ۔ 



انھوں نے بتایا کہ اغواکاروں نے انھیں برہنہ کیااور  رسی سے باندھ کر لکڑی کے ڈنڈوں اور گنے سے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اور اس دوران اُن کی ویڈیو بھی بناتے رہے ۔

تشدد کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اُنھوں نے بتایا کہ میرا خیال ہے جو لوگ جعلی پیر بن کر کرونا وائرس کے علاج کا ڈھونگ رچا رہے ہیں اور لوگوں سے پیسے بٹور رہے ہیں انھوں نے ہی  مجھے اغوا کر کے مجھ پر تشدد کیا ہے ۔

علامہ ناصر مدنی پر حملے کا ڈراپ سین


اُنھوں نے بتایا کہ اُن کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے لیکن اس پر ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی علامہ ناصر مدنی نے پیر حق خطیب کے حوالے سے خطاب کیا تھا کہ اگر وہ پھونکوں سے علاج کر سکتے ہیں تو انھیں کرونا کے علاج کے لیے ووہان بھیجا جانا چاہیے ۔

عمران خان کا قوم سے خطاب : کرونا وائرس سے نہ گھبرانے کی تلقین


عمران خان نے آج قوم سے خطاب کرتے ہوئے کرونا وائرس کے حوالے سے اپنی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا ۔
انھوں نے بتایا کہ ہم 15 جنوری سے ہی اس کے حوالے تیاری کر رہے تھے جب کہ پہلا کیس 26 جنوری کو پاکستان میں آیا ۔ 
 20 کیس ہونے کے بعد ہم نے پاکستان میں نیشنل سیکورٹی کمیٹی بنائی ۔ کمیٹی میں کرونا کے حوالے  سے  دنیا کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا ۔

اُنھوں نے کہا کہ ہم ایک غریب ملک ہیں ہماری معیشت مکمل لاک ڈاؤن کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔  ہمارے حالات ترقی یافتہ ملکوں سے بالکل مختلف ہیں ۔ 
اس طرح تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے ۔ 

کرونا وائرس پاکستان میں صورتحال بے قابو ہونے کا خطرہ



اُنھوں نے مزید بتایا کہ ہم نے NDMA (نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی) کو متحرک کیا ہے جو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے گی ۔ ہم نے ان کو فنڈز دیے ہیں کہ وہ   وینٹی لیٹر سمیت اس وبا پر قابو پانے کے لیے آلات اور ضروری اشیا درآمد کرے ۔ 

انھوں نے کہا کہ جو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی حکومت کوشش کرے گی کی ان کو ریلیف دے ۔ اسی طرح مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔

کرونا وائرس : پاکستان متاثر ہونے والے بڑے تیس ممالک میں شامل

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ قوم کو اس مشکل وقت کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا ۔ تب ہی ہم اس صورتحال سے نکل سکتے ہیں ۔

بیرون ملک پاکستانیوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایمبیسیز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اپنے پاکستانی بھائیوں کی مکمل مدد کی جائے ۔ 





بازار حسن بھی ویران : کرونا کا خوف

جہاں ایک طرف حکومت نے  تعلیمی اداروں اور سینما گھروں کو 31 مارچ تک بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں ۔ وہیں کرونا وائرس کے باعث بازارِ حسن کا دھندہ بھی بہت مندا جا رہا ہے ۔

مہاراشٹر حکومت کے  لوگوں کے ہجوم والی کاروباری سرگرمیوں کی بندش کے بعد ممبئی کے سرخ بتی والے علاقے میں بھی اس کا خاصا اثر دیکھا گیا ۔


ہفتہ اور اتوار کا دن تفریح گاہوں اور بازار حسن میں گاہکوں کا تانتا بندھا رہتا ہے لیکن اب یہ جگہیں اجڑے ہوئے سنسان باغ کا منظر پیش کر رہی ہیں ۔

عموماََ مزدور پیشہ لوگ جو دور دراز کے علاقوں سے یہاں کام کے لیے آئے ہوئے ہیں ۔ ان دنوں میں سیر تفریح اور موج مستی کرتے ہیں ۔ لیکن کرونا وائرس کے خوف سے اس ہفتہ اتوار کو اُنھوں نے گھر پر رہنے کو ترجیح دی ۔

اور کمرشل سیکس ورکرز اپنے گاہکوں کا انتظار کرتی رہ گئیں ۔  ایک جسم فروش خاتون نے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ عام طور پر اتوار کمائی کا دن ہوتا ہے لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا ۔

ممبئی کی تفریح گاہیں ، سیاحتی مقامات ، ہوٹل شراب خانے جہاں چھٹی کے دن لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا ۔ اس بار ویران نظر آئے ۔

جو چند ایک لوگ دکھائی بھی دیے وہ ماسک پہنے ہوئے تھے ۔ اور خوفزدہ اور جلدی میں تھے ۔

  


ابراہیم قادری کی حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی توہین : گرفتاری اور رہائی

ابراہیم قادری جن کا سابقہ نام جارج مسیح ہے ۔ نے حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریم کی شان میں شدید گستاخی کرتے ہوئے انتہائی غلیظ زبان استعمال کی ہے ۔
جس کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد مسیحی برادری شدید غم و غصے میں آ گئی ۔
واضح رہے کہ ابراہیم قادری جس کا تعلق رحیم یار خان سے ہے  سابقہ مسیحی ہے  اور اسلام قبول کرنے کے بعد اُس نے اپنا نام ابراہیم قادری اختیار کیا تھا ۔

پنجاب اسمبلی کے مسیحی ممبر طارق مسیح گل نے جب پنجاب اسمبلی میں اس کی گستاخی  پر گرفتاری کی قرارداد پیش کی تو ابراہیم قادری کو گرفتار کر لیا ۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس کے خلاف توہین مذہب کی دفعات کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ 

گرفتاری کے بعد اس کو نامعلوم مقام پر رکھا گیا تھا اور یہ یقین دہانی کرائی جا رہی تھی کہ قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ 

لیکن گرفتاری کے چند روز بعد ہی اُسے رہا کر دیا گیا ہے ۔
جس پر مسیحی برادری سراپا احتجاج ہے ۔
شبیر شفت چئیرمین نیشنل کریسچین پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ
انھیں اس عمل سے شدید دُکھ پہنچا ہے ۔
 انھوں نے کہا ہے کہ ابراہیم قادری کی رہائی یہ ثابت کرتی ہے کہ بلاسیفی لا صرف کریسچین کو دبانے کے لیے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ذاتی جھگڑوں پر بھی بلاسیفی کی دفعات لگا کر بہت سے مسیحوں کو اس وقت بھی جیل میں ڈالا گیا ہے ۔

لیکن اس شخص کی ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے جو اس کی گستاخی کا واضح ثبوت ہے لیکن اس کے باوجود اسے رہا کر دیا گیا ہے ۔


انھوں نے ابراہیم قادری کی فوری گرفتاری کے ساتھ ساتھ اس کو رہا کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔


اختتام کی جانب بڑھتا ہوا پی ایس ایل

پی ایس ایل اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ اب صرف سیمی فائنل اور فائنل کے میچز باقی رہ گئے ہیں ۔
کرونا وائرس نے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ اس لیگ کو بھی متاثر کیا اور بہت سے غیر ملکی کھلاڑی لیگ ادھوری چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔

اس کے علاوہ آخری لیگ میچز بغیر تماشائیوں کے کھیلے گئے جس کی وجہ سے روایتی جوش و خروش نظر نہیں آیا ۔ 


کوئٹہ گلیڈیئٹر اور اسلام آباد 
کے فینز کو بھی دھچکا لگا کہ یہ ٹیمیں سیمی فائنل کھیلنے میں ناکام رہیں ۔ 
اور لاہور قلندر نے قلندارانہ انداز میں کم بیک کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لی ۔ اور دمادم مست قلندر کر دیا ۔
اگر کرس لِن اور ڈنک ایک بار پھر کھیل گئے تو فائنل کا مرحلہ ان سے کچھ دور نہیں ہے ۔
کوئٹہ گلیڈیئٹر کے خلاف جانے والے کچھ متنازعہ فیصلے بھی اس ٹورنامنٹ میں زیرِ بحث رہے ۔

میچز کے دوران حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ٹریفک کے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوئے اور جن شہروں میں میچز ہوتے رہے وہاں کے شہری شدید مشکلات سے گزرتے رہے ۔ لیکن یہ مشکلات کرکٹ کے شور و غوغا میں دب گئیں اور کسی نے اس کے سّدِ باب کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔

بہرحال خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان میں کرکٹ واپس آئی ہے ۔ اور کرکٹ شائقین کو کو یہ امید بندھی ہے کہ مستقبل میں انھیں پاکستان میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی ۔ 


کرونا وائرس پاکستان میں صورتحال بے قابو ہونے کا خطرہ

سندھ میں کرونا وائرس کے 41 نئے کیس سامنے آنے کے بعد اب پاکستان میں کرونا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی کل تعداد 94 ہو گئی ہے ۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی اس وبا کے بے قابو ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔
کیونکہ حکومت اجتماعات پر پابندی لگا رہی ہے ۔ تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں ۔ اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی 
تلقین کی جا رہی ہے ۔

لیکن وائرس سے بچاؤ کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے ۔ ایران سے آنے والے افراد جو بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں ۔ ان کی بھی مختلف ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں ۔ کہ انھیں انتہائی غیر صحت مندانہ ماحول میں رکھا جا رہا ہے ۔ اور حکومت کی طرف سے دستانے اور ماسک تک مہیا نہیں کیے جا رہے ۔

عمران خان کا قوم سے خطاب : کرونا وائرس سے نہ گھبرانے کی تلقین

ایران جو کہ پاکستان سے بہتر انفراسٹرکچر کا حامل ملک ہے وہاں 700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 13 ہزار سے زائد اس وبا کا شکار ہیں ۔  

اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو پاکستان  میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو جائے گی ۔ کیونکہ لوگوں کی اکثریت پہلے ہی غربت کے ہاتھوں مجبور ہے ۔ ان کے لیے ممکن نہیں کہ گھر بند ہو کر بیٹھ جائیں ۔ کیونکہ اس طرح ان کے بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے ۔

ظاہر ہے لوگ کرونا سے ڈر کر بھوک سے مرنے کو ترجیح نہیں دیں گے ۔ معاشی 
بحران ملک میں جرائم چوری ، اور سٹریٹ کرائم میں شدید اضافے کا باعث بنے گا ۔


یہ خوفناک صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس وقت منافع خوری ، لالچ اور ہوس اقتدار کو ترک کر کے خالص انسانی بنیادوں پر اس المیے کا مقابلہ کیا 

جائے ۔


بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ حکومت اور ادارے عالمی اداروں سے کرونا کے نام پر فنڈ لے کر اس کی بندر بانٹ کرنا چاہتے ہیں ۔ اور اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ بلکہ عوام کی اکثریت ایک بہت بڑے المیے کا شکار ہونے والی ہے ۔

اس صورتحال میں عوام اور عوامی مفادات کا تحفظ کرنے والی قوتوں کا فرض ہے کہ وہ اس صورتحال میں حکومت پر دباؤ

                                                                                .بڑھاتے ہوئے انھیں مجبور کیا جائے کہ وہ راست اقدامات کریں


کرونا وائرس تازہ ترین ملکی و عالمی صورتحال : پاکستان میں مریضوں کی تعداد 53


کرونا وائرس نے جس طرح وبا کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ اس سے ترقی یافتہ ممالک بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ۔
چین نے حیران کن طور ہر اقدامات کرتے ہوئے اس پر قابو پا لیا ہے ۔ اس میں ان کا مختصر وقت اس وائرس کے علاج کے لیے ایک بڑے ہسپتال کی تعمیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ 

اس وقت چین میں اس کے صرف 10 ہزار کیسز موجود ہیں جب کہ اٹلی میں 20 ہزار چھ سو اور ایران میں آٹھ ہزار چھ سو ہے ۔ چین میں یہ تعداد مسلسل کم ہو
رہی ہے ۔ جب کہ ان ممالک میں یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔

بازار حسن بھی ویران : کرونا کا خوف

اس وقت دنیا میں 167682 افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ۔ جن میں سے 6456 کی موت ہو چکی ہے ۔ جب کہ 76598 مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں ۔ 

اس وقت بھی 84 ہزار سے زائد افراد اس کا شکار ہیں ۔ اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ مختلف ممالک اس حوالے سے بچاؤ کے اقدامات کر رہے ہیں ۔
تیسری دنیا کے ممالک میں اگر یہ وبا پھیلتی ہے تو اس کے بہت بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں ۔ کیونکہ وہاں علاج معالجے کے حوالے سے کوئی انفراسٹرکچر ہی موجود نہیں ہے ۔ 

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھتے ہوئے 53 ہو گئی ہے ۔ اس وائرس سے اب تک صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں کرونا کے 33 مریض ہیں ۔ 53 میں سے مکمل صحت یاب ہونے والوں کی تعداد صرف 02 ہے ۔لوگوں کو اس حوالے سے آواز اُٹھانی ہو گی اور حکومتوں پر دباؤ ڈالنا پڑے گا کہ وہ اپنی عیاشیوں اور دیگر فضول 
اخراجات کو ترک کر کے ترجیحی بنیادوں پر لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اقدامات کریں ۔



Featured Post

سزائے موت سے بچ جانے والے ساتھیوں کو ہدایت : بھگت سنگھ

باتو کشور دت کے نام سزائے موت سے بچ جانے والے ساتھیوں کو ہدایت یہ موت کی سزا سے بچ رہنے والے ساتھیوں کے لیے ہدایت نامہ تھا ۔ اس میں ب...

Popular Posts